بدھ 2 ستمبر 2026 - 00:48
اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ امور پر توجہ دینا ہی اتحادِ امت کا راستہ ہے: مولانا سید اقتدار حسین رضوی

حوزہ/ سیوان، بہار میں ہفتۂ وحدت کے عنوان سے منعقد ہونے والی پُروقار تقریب میں اہلِ سنت و اہلِ تشیع کے علمائے کرام، مذہبی و سماجی شخصیات، شعرائے کرام اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مقررین نے اتحادِ امت، باہمی اخوت اور احترام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے مسلمانوں سے اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ مسائل کے حل کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،سیوان، بہار/سیوان شہر، ضلع سیوان، ریاستِ بہار میں ہفتۂ وحدت کے عنوان سے ایک شاندار، پُروقار پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کی اہم مذہبی و سماجی شخصیات، علمائے کرام، شعرائے کرام، حفاظ، نعت خواں حضرات اور بڑی تعداد میں مومنین و عوام نے شرکت کی۔

پروگرام کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی، باہمی محبت و اخوت کو فروغ دینا اور موجودہ دور میں وحدتِ امت کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ پروگرام کے اعلان کے ساتھ ہی مومنین میں خاصا جوش و خروش دیکھنے میں آیا اور بڑی تعداد میں لوگوں نے اس میں شرکت کی۔ خصوصاً ان افراد میں بھی اس پروگرام کے حوالے سے غیر معمولی دلچسپی پائی گئی جو پہلی مرتبہ اس نوعیت کے کسی پروگرام میں شریک ہوئے تھے۔

ہفتۂ وحدت کے اس پروگرام کی ایک اہم خصوصیت یہ رہی کہ اس میں اہلِ سنت اور اہلِ تشیع دونوں مکاتبِ فکر کے علمائے کرام اور مذہبی شخصیات نے شرکت کرکے اتحاد و اتفاق کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔ شعرائے کرام نے اپنے پُرجوش اور مؤثر اشعار کے ذریعے وحدت، اخوت اور مسلمانوں کے باہمی اتحاد کا پیغام عوام تک پہنچایا، جبکہ نعت خواں حضرات نے بھی اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا۔

مومنین میں اس پروگرام کے حوالے سے خاصا جوش و خروش اس لیے بھی دیکھنے میں آیا کہ رہبرِ عزیز حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مدظلہ العالی کے پیغامِ وحدت اور مسلمانوں کے اتحاد و یکجہتی کے حوالے سے ان کے افکار و فرامین کو یاد کیا گیا۔ رہبرِ انقلابِ اسلامی ایران سے محبت و عقیدت رکھنے والے افراد کی یہ خواہش تھی کہ سیوان میں بھی ایسا پروگرام منعقد ہو جس میں وحدتِ امت، اتحادِ مسلمین اور باہمی اخوت کے پیغام کو عام کیا جائے۔

ایسے پروگرام جہاں کہیں منعقد ہوتے ہیں، وہاں عوام میں بیداری، شعور اور اتحاد کا جذبہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔ سیوان میں منعقد ہونے والے اس پروگرام سے بھی یہی پیغام ملا کہ اختلافات سے بالاتر ہوکر مسلمانوں کو مشترکہ مسائل پر متحد ہونے اور ایک دوسرے کے قریب آنے کی ضرورت ہے۔

اہلِ سنت و اہلِ تشیع کی اہم شخصیات کی شرکت، وحدتِ امت، اخوت و بھائی چارے کے فروغ پر زور

اہلِ سنت کے امامِ جمعہ و جماعت حافظ عابد کا خطاب

پروگرام کے دوران اہلِ سنت کے معروف عالمِ دین و امامِ جمعہ و جماعت حافظ عابد نے اہم اور پُرجوش خطاب فرمایا۔ ان کی تقریر میں ایران، فلسطین، مسلمانوں کے اتحاد اور رہبرِ انقلابِ اسلامی کے افکار و خدمات کا خصوصی ذکر کیا گیا۔

حافظ عابد نے فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو فلسطین میں ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے اور وہاں کے حالات و حقائق کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور مظلوم کی حمایت کرنا انسانی اور اسلامی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے فلسطین کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ صحیح حقائق کو عوام تک پہنچانے اور مظلوم فلسطینیوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی جائے، تاکہ عالمی سطح پر ہونے والے مظالم کے حقائق لوگوں کے گھروں تک پہنچ سکیں اور باطل کے خلاف حق کی آواز بلند ہو۔

حافظ عابد صاحب نے مزید کہا کہ عظیم مذہبی و سیاسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی خدمات اور مسلمانوں کی سربلندی کے لیے ان کی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ایسی شخصیت کی خدمات کو یاد رکھنا اور ان کے پیغام کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں محض جذبات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ میدانِ عمل میں آکر اتحاد، اخوت اور مسلمانوں کی سربلندی کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ رہبر کی دلی خواہشات اور مسلمانوں کے اتحاد کے پیغام کو آگے بڑھانا ہی ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

اہلِ سنت و اہلِ تشیع کی اہم شخصیات کی شرکت، وحدتِ امت، اخوت و بھائی چارے کے فروغ پر زور

اہلِ سنت کے دیگر علمائے کرام اور حفاظ کی شرکت

پروگرام میں مفتی صاحب کے علاوہ اہلِ سنت کے دیگر علمائے کرام، حفاظِ کرام، شعرائے کرام اور نعت خواں حضرات نے بھی شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اہلِ سنت کے بعض شرکاء نے اس پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ اس طرح کے پروگرام میں شریک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پروگرام میں شرکت کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ اس نوعیت کے پروگراموں کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب دل چاہتا ہے کہ آئندہ جب بھی اس عنوان سے کوئی پروگرام منعقد ہو تو اسے ہرگز نہ چھوڑا جائے اور اس میں بھرپور شرکت کی جائے۔

اس موقع پر اہلِ سنت کے مفتی صاحب، شعرائے کرام اور نعت خواں حضرات کی موجودگی نے پروگرام کی رونق میں اضافہ کیا، جبکہ دوسری جانب اہلِ تشیع کے علمائے دین اور شعرائے کرام نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی اور نظم و نثر کے ذریعے عوام تک وحدت، اتحاد اور اخوت کا پیغام پہنچایا۔

اہلِ سنت و اہلِ تشیع کی اہم شخصیات کی شرکت، وحدتِ امت، اخوت و بھائی چارے کے فروغ پر زور

اہلِ تشیع کے علمائے کرام اور شعرائے کرام کی شرکت

اہلِ تشیع کے علمائے دین اور شعرائے کرام نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ علمائے کرام نے اپنی تقاریر کے ذریعے وحدتِ امت، اتحادِ مسلمین، باہمی احترام اور اخوت کے پیغام کو اجاگر کیا، جبکہ شعرائے کرام نے نظم و شعر کے ذریعے حاضرین کے جذبات کو بیدار کیا۔

پروگرام میں نظم و نثر کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا کہ مسلمان اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ مسائل اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قریب آئیں اور باہمی اختلافات کو اتحاد کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیں۔

اہلِ سنت و اہلِ تشیع کی اہم شخصیات کی شرکت، وحدتِ امت، اخوت و بھائی چارے کے فروغ پر زور

مہمانِ خصوصی مولانا سید اقتدار حسین رضوی کا خطاب

اس موقع پر پروگرام کے مہمانِ خصوصی مولانا سید اقتدار حسین رضوی تھے، جو ہندوستان سے ایران میں دینی تعلیم کے سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے تشریف لے گئے ہیں۔ انہوں نے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی پروگرام میں شرکت کی اور اپنے مؤثر خطاب سے حاضرین کو مستفید فرمایا۔

مولانا سید اقتدار حسین رضوی نے کہا کہ ایران میں وحدت اور اتحاد کے عنوان سے منعقد ہونے والے پروگراموں میں عوام کی خاص دلچسپی اور گہری وابستگی ہوتی ہے۔ ایسے پروگراموں کے لیے کئی ماہ قبل سے تیاریاں شروع کی جاتی ہیں اور مختلف مذہبی تقریبات، علمی نشستوں اور ادبی و شعری پروگراموں کے ذریعے انہیں کامیاب بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں اس نوعیت کے پروگراموں میں لوگوں کے اندر ایک خاص تشنگی، کیفیت اور جوش پایا جاتا ہے۔ پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے مختلف مذہبی و ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ادبی اور شعری نشستوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ ایسے پروگراموں میں پوری دنیا سے لوگ بطورِ مہمان شرکت کرتے ہیں اور وحدت و اتحاد کے پیغام کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

مولانا سید اقتدار حسین رضوی نے کہا کہ ہمیں بھی ہندوستان میں اسی جذبے کے ساتھ ایسے معنوی اور وحدت پر مبنی پروگراموں کا انعقاد کرتے رہنا چاہیے۔ ہفتۂ وحدت محض ایک عنوان نہیں بلکہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات کو نظرانداز کرتے ہوئے ان مشترکہ امور پر توجہ دینی چاہیے جو پوری امتِ مسلمہ کو متحد کرتے ہیں۔ یہی فرمانِ رسولِ اکرمؐ ہے اور یہی تعلیمِ اہلِ بیتؑ ہے۔ ہمارے سابق علمائے کرام ہوں یا موجودہ علمائے کرام، سبھی اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کو مضبوط کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی وحدت کے عنوان سے کوئی پروگرام منعقد ہو تو ہمیں اپنے ذہن و فکر کو یکجا کرکے ایسی گفتگو اور ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے معاشرے میں اتحاد، اخوت اور بھائی چارے کو فروغ حاصل ہو۔ ایسے پروگراموں کے ذریعے نوجوان نسل کو بھی اتحاد و وحدت کا صحیح پیغام دیا جاسکتا ہے۔

مولانا سید اقتدار حسین رضوی نے کہا کہ اگر نئی نسل کے ذہنوں میں باہمی احترام، محبت، رواداری اور اخوت کا جذبہ پیدا کیا جائے تو مستقبل میں معاشرے کو مزید مضبوط اور متحد بنایا جاسکتا ہے۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ اتحادِ امت کا پیغام ہر جگہ پہنچے، باہمی محبت و اخوت کو فروغ ملے اور مسلمانوں کے درمیان یکجہتی کا نعرہ بلند ہو۔

وحدتِ امت وقت کی اہم ضرورت

مقررین نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ آج کے دور میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد و وحدت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ دشمن عناصر مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دے کر انہیں کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان اپنے مشترکہ مسائل کو سمجھیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں۔

مقررین نے کہا کہ یہی فرمانِ رسولِ اکرمؐ ہے، یہی تعلیمِ اہلِ بیتؑ ہے اور ہمارے بزرگ علمائے کرام ہمیشہ اتحاد و اتفاق کی تلقین کرتے آئے ہیں۔ اس لیے جب بھی وحدت کے عنوان سے کوئی پروگرام منعقد ہو، ہمیں اپنے ذہن و فکر کو یکجا کرکے ایسی گفتگو اور ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے معاشرے میں اتحاد، اخوت اور بھائی چارے کو فروغ حاصل ہو۔

پروگرام میں شریک علمائے کرام، شعرائے کرام، نعت خواں حضرات اور عوام نے ہفتۂ وحدت کے اس پروگرام کو نہایت سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد میں بھرپور تعاون کیا جائے گا، تاکہ اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کے درمیان اتحاد، محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کی فضا مزید مضبوط ہو۔

سیوان میں پہلی مرتبہ منعقد ہونے والا یہ پروگرام صرف ایک مذہبی اجتماع تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے مختلف مکاتبِ فکر کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے، باہمی رابطے کو مضبوط کرنے اور اتحاد و وحدت کے پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

دعائے امامِ زمانہؑ کے ساتھ پروگرام کا اختتام

آخر میں پروگرام کے منتظمین اور شرکاء کی جانب سے ملک و ملت، مسلمانوں کے اتحاد و سربلندی، فلسطین کے مظلوم عوام اور پوری انسانیت کے لیے خیر و سلامتی کی دعا کی گئی۔

یہ پُروقار پروگرام دعائے امامِ زمانہؑ کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ سیوان میں پہلی مرتبہ منعقد ہونے والا ہفتۂ وحدت کا یہ پروگرام اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کے درمیان اتحاد، اخوت، محبت اور باہمی احترام کے فروغ کی جانب ایک اہم اور قابلِ تحسین قدم ثابت ہوا۔

پروگرام کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وحدتِ امت کے اس پیغام کو صرف ایک پروگرام تک محدود نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اسے معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچانے اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کی مسلسل کوشش کی جائے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha